Home About Us Link to Us History Search Contact Us
Lectures
Naats
Personalities
Islamic Events
Articles
Wallpapers
Search
Member Login
  Email Address
 
  Password
 
 
  Lost Password?
  No Account yet? Register
 
Articles | Islamic Articles
  We are here : Articles » Islamic Articles » میلاد شرعی تناظر میں  
     
 
میلاد شرعی تناظر میں
User Rating:
 / 36
Poor Best
Total Views: 4119    
 
جہاں تک یہ کہنا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلیٰ اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ١٢ربیع الاول کو نہیں بلکہ ٩ربیع الاول کو اس دنیا میں تشریف لائے-اور اس حوالے سے ایک ریفرنس بھی دیا گیا ہے-تو میں یہ دلیل پیش کرو گا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم ہمیشہ بڑی جماعت کے ساتھ رہنا کیونکہ بڑی جماعت کبھی غلطی پر نہیں ہوگی-آج بھی مسلمانوں کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا ولادت با سعادت کا دن ١٢ربیع الاول ہے-اس لیے بڑی جماعت ہی کے ساتھ چلنا چاہیے نہ اقلیت کے ساتھ- اور حکم بھی یہی ہے کہ امت کا اجماع ہمیشہ حق بات پر ہوگا

یہ کہنا کہ مسلمانوں کی دو عیدیں ہیں-تو زرا غور کرنے کی بات ہے کہ وہ دن جس دن الله کا محبوب، دونوں جہاں کے سردار حضرت محمد رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اس جہاں میں تشریف لائے-یہ دن عید سے کم نہیں بلکہ زیادہ خوشی کا دن ہے-اس دن جتنی خوشی منائی جائے وہ کم ہے

جہاں تک ریفرنس کی بات ہے تو یہ ریفرنس کیا کم ہے کہ جتنے بھی اولیاء کرام الله رحمتہ اس وقت موجود ہیں اور جو پہلے گزرے ہیں وہ سب میلاد مناتے تھے،مناتے ہیں اور تا قیامت میلاد منایا جاتا رہے گا- جو حوالہ حضرت مجدد الف ثانی الله رحمتہ کا پیش کیا گیا ہے تو انہوں نے میلاد کومنانے سے روکا نہیں-بلکہ میلاد کو شریعت کے مطابق نہ منانے کی وجہ سے ناراضگی کا اظہار کیا ہے-جتنے بھی علماء حق میلاد کی محافل کا انعقاد کرتے ہیں اس محفل میں شریعی اصولوں کی پاسداری کی جاتی ہے، نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے یہ کہنا بدعت ہے کہ نماز کے وقت نعت خوانی جاری رکھی جاتی ہے-اور یہ بھی یاد رہے بدعت گمراہی ہے-نعت خواں کا پیسوں کے لیے نعت پڑھنے کا سوال ہے تو میں یہ کہوں گا کہ جو محفل کے منتظمین ہوتے ہیں- وہ اگر نعت خوانوں کے آنے جانے کے اخراجات اٹھاتے ہیں-اور ان کو پیسے دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں-ہاں بجلی چوری کی صورت میں ثواب کی بجائے گناہ ہوگا- یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کوئی بجلی چوری کررہا ہے یا صرف گمان ہے کہ بجلی چوری ہوئی-میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ جو لاکھوں روپے لگا کر محفل کا انعقاد کرے گا-وہ کبھی بھی تھوڑے سے پیسے بچانے کے لیے بجلی چوری نہیں کرے گا

جہاں تک صحابی رضی الله تعالیٰ عنہ کے میلاد منانے کا حوالہ مانگا جاتا ہے تو میں یہ پوچھتا ہوں کہ اس سے منع بھی تو نہیں کیا گیا-اور صحابہ کرام رضی الله تعالی ٰعنہم سے ہی ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اپنی ولادت و باسعادت کے دن یعنی ہر پیر کو روزہ رکھتے تھے- یہ میلاد منانے والوں کے لیے بڑی دلیل ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم تو اپنی ولادت با سعادت کے دن روزہ رکھ کر خوشی مناتے تھے تو ہم سال میں ایک دن یعنی ١٢ربیع الاول کو خوشیاں مناتے ہیں-اگرچہ یہ سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے تاہم ربیع الاول کے مہینے میں یہ سلسلہ عروج پر پہنچ جاتا ہےاور ١٢ربیع الاول کو الحمدالله ہم شایان شان منانے کی کوشیش کرتے ہیں-پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں ذکر الله کے حبیب حضرت محمد رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا ہو وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے- میلاد منانا سنت رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ہر پیر کو روزہ رکھ کر میلاد منایا اور صحابہ کرام رضی الله تعالیٰ عنہم نے رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی- اس لیے ہمیں بھی ١٢ربیع الاول کو روزہ رکھنا چاہیے یہ سنت رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہے

الله ہمیں ربیع الاول کے مبارک مہینے میں نیک عمل کرنے اور شریعت عمل ہونے کی توفیق عنائت فرمائے-آمین
 
Comments  
Add Comment
 
 
     
pagla
Polls
  What type of content would you like to see on lovemuhammad.org
Articles on Morals and manners
Articles on Personalities
Articles on Islam
Other
 
 
Download Wallpapers
 
 
Copyright 2008, LOVE MUHAMMAD Home  |  About Us  |  Link to Us  |  History  |  Search  | Contact Us Total Views:   945271 Designed & Developed By: Progressive